خدا کے وجود کے لیے ما ورائی دلیل

Transcendental argument for the existence of god

 ما ورائی دلیل خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے ایک فلسفیانہ دلیل ہے۔ اس دلیل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایسی کچھ چیزیں ہیں جن کا وجود ہے جن کے وجود کو سائنس فلسفہ عقل اور ہم سب بھی مانتے ہیں، کچھ ایسے بنیادی حقائق ہیں جو ہماری سوچ اور تجربے کا حصہ ہیں، اور ان حقائق کی وضاحت صرف خدا کے وجود کے ذریعے ممکن ہے۔

ما ورائی دلیل کی بنیاد

ماورائی دلیل کا خیال ہے کہ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ہماری دنیا میں موجود ہیں اور ان کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے خدا کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر:

زندگی: زندگی کا وجود ہے سب مانتے ہیں لیکن یہ زندگی کہاں سے ائی اس کا جواب مادہ نہیں ہو سکتا کیونکہ خود مادہ زندگی سے خالی ہے اور جو جس چیز سے خالی ہو وہ چیز اس سے نہیں ا سکتی یہ مسلمہ اصول ہے۔

عقل: عقل کا وجود ہے لیکن اس کا وجود کہاں سے ایا اس کا جواب اس کائنات اور مادے کے ذریعے سے نہیں دیا جا سکتا کیونکہ جب عقل اس مادے کے پاس ہی نہیں ہے تو مادے سے عقل کیسے ا سکتی ہے ہرگز نہیں، اس کا جواب ایک ایسی ذات کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے جو اس مادے سے ماورا ہو۔

شعور: شعور کہاں سے ایا اس کا جواب مادہ نہیں ہو سکتا کیونکہ جب خود مادہ بے شعور ہے تو اس سے شعور کیسے ا سکتا ہے۔

Objective Morality:

ہر انسان کے اندر اس کا وجود ہے مثال کے طور پر ہر انسان عدل و انصاف کو پسند کرتا ہے، شفقت اور احمد کو اچھا سمجھتا ہے، ظلم اور بے جا قتل کو برا سمجھتا ہے، یہ ساری چیزیں انسان کی فطرت میں کس نے رکھی؟ اس کا جواب مادہ اور یہ کائنات نہیں ہو سکتا چونکہ ابجیکٹو موریلٹی کا وجود ہے اس لیے اس مادے سے ماورا کوئی ذات ضرور ہے جس نے اس کو انسان کی فطرت میں رکھا ہے۔

دلیل کی وضاحت

ماورائی دلیل کہتی ہے کہ زندگی عقل شعور اور اخلاقیات کا وجود تو ہو اور ان کا ماخذ اور منبع یہ مادہ اور کائنات بھی نہ ہو اور پھر بھی ان کا ماخذ اور منبع اس کائنات سے ماورا نہ ہو، یہ ناممکن ہے۔

نتیجہ

ما ورائی دلیل کے مطابق، ہماری دنیا کے کچھ بنیادی حقائق کی وضاحت کے لیے خدا کا وجود ضروری ہے۔ کیونکہ جب کچھ حقائق کا ماخذ اور منبع یہ مادہ نہیں ہے، تو اس مادے سے پرے کوئی ذات ضرور ہے جو ان تمام حقائق کا ماخذ اور منبع ہے چونکہ ان حقائق کا وجود ہے تو اس لیے ان کے ماخذ اور منبع کا وجود بھی ضروری ہے۔

از سرجیل سر 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top