بایوجینیسیس کا قانون یا سیل  تھیوری: زندگی صرف زندگی سے ہی  پیدا ہو سکتی ہے۔ 

 

بایوجینیسیس کا قانون ایک بنیادی سائنسی حقیقت ہے جو یہ بتاتا ہے کہ زندگی صرف پہلے سے موجود زندگی سے پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ نظریہ خودبخود پیدائش کی تھیوری کے برعکس ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ زندگی بے جان مادے سے خودبخود پیدا ہو سکتی ہے۔

سیل تھیوری کی تاریخ

سیل تھیوری کے مطابق، تمام زندہ اجسام سیلز (خلویات) سے بنے ہوتے ہیں، اور ہر سیل پہلے سے موجود سیل سے پیدا ہوتا ہے۔ اس تھیوری کو پہلی بار 1838 میں شیلڈن اور 1839 میں شوآن نے پیش کیا۔

رُڈولف وِرچو کی ترمیم: 1855 میں رُڈولف وِرچو نے سیل تھیوری کو مزید ترقی دی اور اسے جدید سیل تھیوری میں تبدیل کیا۔ وِرچو کا مشہور مقولہ ہے: “ہر سیل پہلے سے موجود سیل سے پیدا ہوتا ہے

” (Omnis cellula e cellula)

اس کے مطابق، زندگی صرف پہلے سے موجود زندگی سے ہی پیدا ہو سکتی ہے۔

تجرباتی ثبوت 

لوئیس پاسچر کا تجربہ: 1862 میں، لوئیس پاسچر نے وِرچو کی تھیوری کے حق میں تجرباتی ثبوت فراہم کیے۔ پاسچر نے ثابت کیا کہ مائیکرو اورگنزمس (جراثیم) صرف موجودہ بیکٹیریا سے ہی بن سکتے ہیں۔ اس نے مختلف تجربات کیے جن میں یہ دکھایا گیا کہ اگر بیکٹیریا کو باہر رکھا جائے تو کوئی نیا جرثومہ پیدا نہیں ہوتا، جب کہ اگر بیکٹیریا موجود ہو تو نیا جرثومہ پیدا ہو جاتا ہے۔

سائنسی حقیقت 

آج کے دور میں، یہ ایک مسلمہ سائنسی حقیقت ہے کہ زندگی صرف پہلے سے موجود زندگی سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ 

بگ بینگ اور زندگی کی ابتدا 

اگر ہم اس اصول کو بگ بینگ کے ،  نظریے کے ساتھ ملائیں، تو مطلب یہ نکلے گا کی بگ بینگ سے پہلے ایک باحیات ذات تھی اور اسی سے یہ مخلوق زندگی ائی۔

آج بائوجینسز کا قانون سائنس میں فیکٹ کی حیثیت رکھتا ہے اگر کوئی اس کو غلط ثابت کرنا چاہتا ہے تو وہ آئے اور بے جان مادہ سے جاندار پیدا  

کر کے دکھائے۔

بائوجینیسس کے قانون کے مطابق چونکہ اب زندگی موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بگ بینگ سے پہلے بھی ایک زندگی موجود تھی جہاں سے یہ زندگی آئی، بگ بینگ سے پہلے سے موجود با حیات ذات کو ہندو مسلم سکھ، عیسائی الگ الگ ناموں سے پکارتے ہیں۔

By Sarjeel Sir 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top