کیا حضرت امیر معاویہ کا گروہ باطل پر تھا؟
حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے درمیان اختلاف کی وجہ
جاء أبو مُسلِمٍ الخَوْلانيُّ وأُناسٌ إلى مُعاويةَ، وقالوا: أنتَ تُنازِعُ علِيًّا، أم أنتَ مِثلُه؟ فقال: لا واللهِ، إنِّي لَأعلَمُ أنَّه أفضَلُ مِنِّي، وأحَقُّ بالأمْرِ مِنِّي، ولكنْ ألستُم تَعلَمونَ أنَّ عُثمانَ قُتِلَ مَظلومًا، وأنا ابنُ عَمِّه، والطّالِبُ بدَمِه؟ فائْتوه، فقولوا له، فليَدفَعْ إليَّ قَتَلةَ عُثمانَ، وأُسلِمُ له. فأتَوْا علِيًّا، فكَلَّموه، فلم يَدفَعْهم إليه.
شعیب الأرنؤوط، تخریج سیر أعلام النبلاء (٣/١٤٠) • رجالہ ثقات
ابو مسلم خولانی اور کچھ لوگ حضرت امیر معاویہ کے پاس گئے اور کہا: “کیا آپ حضرت علی سے جھگڑ رہے ہیں یا آپ اپنے آپ کو ان کے برابر سمجھتے ہیں؟” حضرت امیر معاویہ نے فرمایا: “نہیں، اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے بہتر ہیں اور خلافت کے زیادہ حق دار ہیں۔ لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عثمان کو ناحق قتل کیا گیا، اور میں ان کا چچا زاد بھائی ہوں اور ان کے خون کا بدلہ لینے والا ہوں؟ جاؤ اور حضرت علی سے کہو کہ وہ مجھے حضرت عثمان کے قاتلوں کو دے دیں، میں ان کے سامنے سر تسلیم خم کر دوں گا۔” وہ لوگ حضرت علی کے پاس گئے اور ان سے بات کی، لیکن انہوں نے قاتلوں کو حضرت امیر معاویہ کے حوالے نہیں کیا۔
اس حدیث کے مطابق حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ دونوں اجتہاد پر تھے۔
حضرت علی کا گروہ حق پر تھا، اس میں کوئی شک نہیں اور نہ ہی کسی کو اس پر اختلاف ہے۔
اب آئیے صحیح دلائل کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ کا گروہ حق پر تھا یا باطل پر؟
پہلی دلیل
ابو داود 3574
إذا اجتَهَد فأصاب فله أجرانِ، وإن اجتَهَد فأخطَأَ فله أجر
“اگر کسی نے اجتہاد کیا اور وہ درست نکلا تو اس کے لیے دو اجر ہیں، اور اگر اجتہاد کیا اور غلطی کی تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔”
حضرت امیر معاویہ اجتہادی خطا پر تھے۔ اور اجتہادی خطا ایک مسلمان ہی سے ہوتی ہے۔ اس لیے وہ ایک اجر کے بھی مستحق ہیں۔ یعنی وہ باطل پر نہیں تھے۔
اس بارے میں مرزا علی انجینئر لکھتے ہیں (ریسرچ پیپر 5a، صفحہ نمبر 3):
“سیدہ عائشہ اور سیدنا معاویہ کی غلطی اجتہادی تھی۔”
ترجمہ صحیح حدیث: سیدنا عمرو بن عاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب کوئی حاکم اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور درست نتیجے پر پہنچے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے، اور اگر اجتہادی غلطی کرے تب بھی اچھی نیت پر ایک اجر ملتا ہے۔”
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 7352، صحیح مسلم: حدیث نمبر 4487)
نوٹ: جنگِ جمل اور جنگِ صفین میں حضرت علی کی طرف سے لڑنے والوں کو دوہرا اجر اور مخالفین کو بھی ایک اجر ملے گا کیونکہ دونوں طرف شامل صحابہ مجتہد تھے۔ (یہاں تک مرزا صاحب کا بیان ختم ہوا)
دوسری دلیل
بخاری: 2704
«إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ المُسْلِمِينَ»
“میرا یہ نواسہ (یعنی حضرت حسن) سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے گا۔”
اس حدیث میں نبی ﷺ نے حضرت امیر معاویہ کے گروہ کو “مسلمان گروہ” کہا ہے۔ یعنی اس کے مطابق حضرت امیر معاویہ باطل پر نہیں تھے، کیونکہ اگر وہ باطل پر ہوتے تو مسلمان گروہ نہ کہلاتے۔
مرزا علی انجینئر اس بارے میں اپنے ریسرچ پیپر 5a، صفحہ نمبر 3 پر لکھتے ہیں:
ترجمہ صحیح حدیث: حسن بصری تابعی کا بیان ہے کہ “جب سیدنا حسن بن علی، سیدنا معاویہ کے خلاف لشکر لے کر نکلے تو سیدنا عمرو بن عاص نے سیدنا معاویہ سے کہا: میں ایک ایسا لشکر دیکھ رہا ہوں جو واپس نہیں جائے گا جب تک اپنے مخالفین کو بھگا نہ دے… لیکن سیدنا حسن بن علی نے بصیرت سے کام لیا اور سیدنا معاویہ سے صلح کر لی۔” اس پر حسن بصری تابعی نے کہا کہ میں نے سیدنا ابوبکر سے سنا کہ نبی ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ وہاں سیدنا حسن بن علی آئے، تو نبی ﷺ نے فرمایا: “میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح ہو جائے گی۔”
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 7109)
نوٹ: الحمدللہ! نبی ﷺ نے دونوں جماعتوں کو مسلمان فرمایا۔ سیدنا حسن نے عظیم قربانی دی اور سیدنا معاویہ سے صلح کر کے ان کی بیعت کر لی۔ یوں خانہ جنگی ختم ہوئی۔ اب کوئی بدنصیب ہی سیدنا معاویہ کو برا کہے گا۔ (یہاں تک مرزا صاحب کا بیان ختم ہوا)
اگر حضرت امیر معاویہ کا گروہ باطل پر ہوتا تو حضرت حسن کبھی بھی ان سے صلح نہ کرتے اور نہ ہی امت کی قیادت کسی گمراہ کے ہاتھ میں دیتے۔
اگر وہ باغی یا باطل پر ہوتے تو حضرت علی بھی کسی حال میں ان سے صلح نہ کرتے کیونکہ قرآن کا حکم ہے کہ باغی کو قتل کیا جائے، اس سے صلح نہیں کی جاتی (سورۃ الحجرات 49:9)۔
حضرت علی اور حضرت حسن کا حضرت امیر معاویہ سے صلح کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ باغی یا باطل پر نہیں تھے۔
اگر وہ باطل پر ہوتے تو اکثر صحابہ ان جنگوں سے الگ نہ رہتے بلکہ سب کے سب حضرت علی کے ساتھ ہوتے۔
تیسری دلیل
مسلم شریف: 2459
يَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَق
“حضرت علی اولیٰ بالحق تھے اور حضرت امیر معاویہ خلافِ اولیٰ تھے، نہ کہ باطل پر۔”
میں یہ مطلب اس لیے لے رہا ہوں کیونکہ حدیث میں “اولیٰ بالحق” کا لفظ آیا ہے اور “اولیٰ” اسمِ تفضیل ہے۔ جب اسمِ تفضیل کے ذریعے دو چیزوں کا موازنہ کیا جاتا ہے تو دونوں میں صفت مشترک ہوتی ہے۔
تو اس حدیث کا مطلب ہوا کہ حضرت علی حق کے زیادہ قریب تھے اور حضرت امیر معاویہ حق کے کم قریب تھے۔ یعنی دونوں حق میں شامل تھے، ایک زیادہ اور ایک کم۔ اس لیے حضرت امیر معاویہ کا گروہ حق کے قریب تھا، باطل پر نہیں۔
حضرت علی کی نظر میں حضرت معاویہ کا گروہ حق پر تھا یا باطل پر؟
پہلی دلیل:
إذ جاءَ ابنُ طلحةَ فسَلَّمَ على عَليٍّ رَضيَ اللهُ عنه، فرَحَّبَ به فقالَ: تُرحِّبُ بي يا أميرَ المؤمنينَ، وقد قَتَلْتَ والدي، وأخَذْتَ مالي؟ قالَ: أمّا مالُكَ فهو ذا معزولٌ في بيتِ المالِ، فاغدُ إلى مالِكَ فخُذْهُ، وأمّا قولُكَ قتلتَ أبي، فإنِّي أرجو أنْ أكونَ أنا وأبوكَ مِنَ الَّذين قالَ اللهُ عزَّ وجلَّ: ﴿وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِن غِلٍّ إِخْوانًا عَلى سُرُرٍ مُتَقابِلِينَ﴾ [الحجر: ٤٧] فقالَ رَجلٌ مِن هَمْدانَ: إنَّ اللهَ أعْدَلُ مِن ذلك. فصاحَ عليه عَليٌّ صيحةً تَداعى لها القصرُ، قالَ: فمَنْ إذنْ نكُنْ إنْ لمْ نكُنْ نحن أولئك؟
الراوي: ربعي بن حراش • الحاكم، المستدرك على الصحيحين (٣٣٩١) • صحیح الإسناد
جب ابن طلحہ نے حضرت علیؓ کو سلام کیا تو آپؓ نے ان کا استقبال کیا۔ ابن طلحہ نے کہا: “آپ میرا استقبال کرتے ہیں، جبکہ آپ نے میرے والد کو قتل کیا اور میرا مال لے لیا؟” حضرت علیؓ نے فرمایا: “تمہارا مال بیت المال میں محفوظ ہے، جاؤ اور لے لو۔ اور تمہارے والد کے قتل کے بارے میں، مجھے امید ہے کہ میں اور تمہارے والد ان لوگوں میں ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِن غِلٍّ إِخْوانًا عَلى سُرُرٍ مُتَقابِلِينَ﴾۔” ایک شخص نے کہا: “اللہ اس سے زیادہ انصاف کرنے والا ہے۔” حضرت علیؓ نے زور سے فرمایا: “اگر ہم اس کے مستحق نہیں ہیں تو پھر کون ہیں؟”
دوسری دلیل:
سُئِلَ عَلِيٌّ عَنْ قَتْلَى يَوْمِ صِفِّينَ ، فَقَالَ : قَتْلاَنَا وَقَتْلاَهُمْ فِي الْجَنَّةِ ، وَيَصِيرُ الأَمْرُ إلَيَّ وَإِلَى مُعَاوِيَةَ. المصنف ابن ابي شيبه رقم 39035 • والاسناد صحیح
حضرت علیؓ سے جنگِ صفین کے مقتولین کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؓ نے فرمایا: “ہمارے بھی اور حضرت امیر معاویہ کے بھی مقتول جنت میں ہیں۔”
اگر حضرت امیر معاویہ اور ان کا گروہ باطل پر ہوتا تو حضرت علیؓ کبھی نہ فرماتے کہ ان کے ساتھی جنت میں ہیں۔
ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ اور ان کا گروہ باطل پر نہیں تھا۔
By Sarjeel Sir