کلام کاسمولوجیکل ارگیومنٹ

 یہ دلیل سیدھی سادی ہے اور تین بنیادی مقدمات پر مشتمل ہے:

جو کچھ بھی وجود میں آتا ہے، اس کی ایک وجہ ہوتی ہے۔ کائنات وجود میں آئی تھی۔ لہذا، کائنات کی ایک وجہ ہے۔

پہلا مقدمہ، “جو کچھ بھی وجود میں آتا ہے، اس کی ایک وجہ ہوتی ہے،”  یہ اصول فطری طور پر اپیل کرنے والا ہے اور روزمرہ کے تجربے اور سائنسی شواہد اس کی حمایت کرتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو وجود میں آتی ہے – چاہے وہ ایک درخت ہو، ایک عمارت ہو، پہاڑ ہو سمندر ہو، ہر وجود میں آنے والی چیز کا کوئی نہ کوئی  سبب ضرور ہوتا ہے، بغیر سبب کے کوئی بھی چیز وجود میں نہیں ا سکتی۔

دوسرا مقدمہ، “کائنات وجود میں آئی تھی،” فلسفیانہ دلائل اور سائنسی شواہد دونوں اس کی حمایت کرتے ہیں۔ 

کائنات کے وجود کی فلسفیانہ دلیل

فلسفیانہ طور پر، لا متناہی ماضی کا تصور مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ اگر کائنات کا کوئی آغاز نہ ہوتا، تو یہ لامتناہی واقعات کے رجعت کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ ناممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقی لا متناہی وجود میں نہیں آسکتی؛ یہ ایک تصور ہے جو تضادات اور متناقضات کی طرف لے جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ماضی لا متناہی ہوتا، تو ہم موجودہ لمحے تک کبھی نہ پہنچ پاتے، کیونکہ کسی بھی لمحے سے پہلے لامتناہی تعداد میں واقعات ہوتے۔

کائنات کے وجود کی سائنسی دلیل

سائنسی طور پر، بگ بینگ تھیوری کافی شواہد فراہم کرتی ہے کہ کائنات کا آغاز ہوا تھا۔ اس نظریے کے مطابق، کائنات تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ایک انتہائی گرم اور گھنے سنگولیرٹی سے پھیل گئی۔ یہ پھیلاؤ وقت اور جگہ کی شروعات کو نشان زد کرتا ہے۔ کائناتی مائیکروویو بیک گراؤنڈ تابکاری کی دریافت اور کائنات کے مشاہدہ شدہ پھیلاؤ اس نظریے کی حمایت کرتے ہیں، جو یہ تجویز کرتا ہے کہ کائنات ابدی نہیں ہے بلکہ اس کا ایک مخصوص نقطہ آغاز تھا۔

نتیجہ، ان دو مقدمات سے منطقی طور پر یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ کائنات کے وجود کا بھی کوئی سبب ہے۔ اگر ہر وہ چیز جو وجود میں آتی ہے اس کی ایک وجہ ہوتی ہے، اور کائنات وجود میں آئی تھی، تو کائنات کی بھی ایک وجہ ضرور ہے۔

کلام کوسمولوجیکل ارگیومنٹ کو کوئی بھی توڑ نہیں سکتا۔

دو قاعدے ہیں 

* کل موجود موجد 

* کل حادث محدث

پہلا قاعدہ بالکل غلط ہے، اس کی دلیل انفینٹ ریگریس ہے۔اس لیے پہلے قاعدے کے مطابق یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ خدا کو کس نے پیدا کیا کیونکہ یہ سوال بالکل غلط ہے۔

دوسرا قاعدہ بالکل درست ہے کہ ہر حادث چیز کا کوئی سبب ہوتا ہے، اب اس قاعدے کے مطابق کوئی یہ سوال نہیں کر سکتا کہ خدا کو کس نے پیدا کیا کیونکہ خدا حادث نہیں ہے۔

اب اگر کوئی یہ کہے کہ ہر چیز کا خالق خدا ہے تو خدا کا خالق کون ہے؟ تو یہ سوال غلط ہے کیونکہ اس دلیل کا پہلا مقدمہ ہی یہ ہے کہ ہر حادث کا کوئی سبب ہوتا ہے جبکہ خدا حادث نہیں ہے، جبکہ خدا مخلوق نہیں ہے، تو یہ سوال ہی غلط ہے۔

اگر کوئی یہ کہے کہ ہر چیز کو اگر خدا نے پیدا کیا ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا ہے؟  تو یہ سوال ہی غلط ہے کیونکہ خدا کی پیدائش ہی نہیں ہے، خدا کا کوئی آغاز نہیں ہے، خدا پیدائش اور آغاز سے پاک ہے۔

آپ کا یہ سوال اس وقت درست ہوگا جب آپ سب سے پہلے خدا کو پیدا شدہ اور بنا ہوا ثابت کر دیں۔

خلاصہ یہ نکلا کہ کلام کوسمولونجیکل ارگیومنٹ کے مطابق خدا کا وجود ہے۔

By Sarjeel Sir 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top