ارسطو کا کاسمولوجیکل آرگیومنٹ اور قانونِ علت و معلول  

اس دلیل میں ایک قانون بیان کیا گیا ہے جسے “قانونِ علت و معلول” (لو آف کوزلٹی) کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے مطابق، کائنات میں ہر چیز کا، ہر اثر کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے۔ لہٰذا، خود کائنات کا بھی کوئی سبب ضرور ہوگا۔

کائنات کا پہلا سبب 

اس دلیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پہلے سبب کا کوئی سبب نہیں ہوگا، کیونکہ طبیعی قوانین صرف طبیعی دنیا پر ہی لاگو ہوتے ہیں، میٹا فزیکل (میٹا) دنیا پر نہیں۔ کائنات کے قوانین صرف کائنات پر ہی لاگو ہوتے ہیں، کائنات سے باہر نہیں۔

قوانین کا اطلاق

کائنات کے قوانین اس وقت تک ہی کام کرتے ہیں جب سے یہ بنی ہیں، اس سے پہلے کے وقت میں نہیں۔ طبیعی قوانین خلا اور وقت (زمان و مکان) میں ہی کام کرتے ہیں، اس سے باہر نہیں۔ اور پہلا سبب کائنات اور خلا و وقت سے باہر ہے اور وہ اس سے پہلے سے ہی موجود ہے، اس لئے قانونِ علت و معلول پہلے سبب پر کام نہیں کرے گا۔

خدا کا قانون کے تابع ہونا ناممکن اور مغالطہ ہے

یہ قانون صرف ہر اس چیز پر کام کرتا ہے جس کا کوئی آغاز ہوتا ہے۔ چونکہ خدا کا کوئی آغاز نہیں ہے، اس لئے خدا اس قانون سے باہر ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے خدا بھی قانون کا تابع ہے تو خدا پابند ہو جایگا۔ اور قانون کی تابعداری کرنے کے لئے ضروری ہے کہ قانون خدا سے پہلے موجود ہو، اگر قانون خدا سے پہلے  تھا۔ تو کوئی بنانے والا بھی ہوگا۔ یعنی خدا کو قانون کا پابند ماننے پر مغالطہ در مغالطہ ہو جاتا ہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ خدا کائنات کے قوانین سے بالاتر ہے اور اس کی کوئی ابتدا نہیں ہے۔ اس لئے خدا قانونِ علت و معلول کا پابند نہیں ہے اور کائنات کے وجود کا سبب ہے۔ 

از سرجیل سر 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top