عام طور پر لوگوں میں یہ غلط فہمی ہے کہ اس وقت دو گروہ تھے ایک حضرت علی کا اور دوسرا حضرت امیر معاویہ کا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ایک تیسرا گروہ اور تھا جس کا ذکر ہے اس حدیث میں۔
Muslim 2459
تَكُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ فَتَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَق
میں اس حدیث کا ترجمہ خود محمد علی مرزا انجینیئر کا کیا ہوا پیش کروں گا اور وہ یہ ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“میرے بعد میری امت دو گروہوں میں تقسیم ہو جائے گی (یعنی امیر المومنین سیدنا علی اور ان کے حامی، اور امیر المومنین سیدنا علی کے مخالفین اور ان کے ساتھی)۔ پھر ان دونوں (مسلمان) گروہوں میں سے ایک (تیسرا) فرقہ الگ ہو جائے گا (یعنی خوارج)، اور اس الگ ہو جانے والے فرقے سے (مسلمانوں کا) وہ گروہ قتال کرے گا جو اس وقت حق کے زیادہ قریب ترین ہوگا۔” (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2459)
(ریسرچ پیپر پانچ اے صفحہ نمبر دو از محمد علی مرزا انجینیئر)
اس حدیث کے مطابق اس وقت دو نہیں تین گروہ تھے
ایک حضرت علی کا
دوسرا حضرت امیر معاویہ کا
تیسرا خوارج کا۔
حضرت علی اولی بالحق تھے اور حضرت امیر معاویہ خلاف اولی تھے
تیسرے گروہ خوارج سے حضرت علی نے قتال کیا تھا جس کی دلیل یہ حدیث ہے۔
سار عليٌّ إلى النَّهْرَوانِ فقتَل الخَوارجَ، فقال: اطلُبوا؛ فإنَّ النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ قال: سيَجيءُ قومٌ يَتكلَّمونَ بكَلِمةِ الحقِّ لا يُجاوِزُ حُلوقَهم، يَمرُقونَ منَ الإسلامِ،
كما يَمرُقُ السَّهمُ منَ الرَّميَّة، تخريج المسند لشعيب 1255، 848 ، تخريج المسند لشاكر : 2/308،
حضرت علیؓ نہروان کی طرف گئے اور خوارج کو قتل کیا، پھر فرمایا: تلاش کرو؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ایک قوم آئے گی جو حق کی بات کرے گی مگر حق ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔”
مرزا محمد علی انجینیئر لکھتے ہیں اس بارے میں
امیر المومنین سیدنا علی نے ہی خوارج اور باغیوں کو جنگ نہروان میں قتل کیا تھا۔ (صحیح بخاری: حدیث نمبر 6933، صحیح مسلم حدیث نمبر 2456)
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2459)
(ریسرچ پیپر پانچ اے صفحہ نمبر دو از محمد علی مرزا انجینیئر )
چونکہ تیسرے گروہ خوارج سے حضرت علی نے قتال کیا تھا اور مسلم شریف حدیث نمبر 2459 کے مطابق جو گروہ تیسرے گروہ خوارج سے قتال کرے گا، وہ اولی بالحق ہوگا تو اس لیے حضرت علی کا گروہ اولی تھا یعنی حق پر تھا، حق کے بہت زیادہ قریب تھا اور حضرت امیر معاویہ کا گروہ خلاف اولی تھا ۔
میں یہ مطلب کیوں لے رہا ہوں اس لیے کیونکہ حدیث میں اولی بالحق کہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور اولی اسم تفضیل ہے اور جب اسم تفضیل کے ذریعے دو چیزوں میں موازنہ کیا جاتا ہے تو اسم تفضیل میں مشارکت فی الوصف پائی جاتی ہے تو حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت علی اولی تھے یعنی حق کے بہت زیادہ قریب تھے اور حضرت امیر معاویہ خلاف اولی تھے یعنی حق کے کم قریب تھے یعنی حق میں حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ دونوں شریک تھے حضرت علی بہت زیادہ اور حضرت امیر معاویہ بہت کم، یہی مطلب ہے اسم تفضیل لفظ اولی کا۔
اور جہاں تک بات ہے تیسرے گروہ خوارج کی تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس حدیث میں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج گروہ ہوگا یعنی خوارج کا گروہ کافروں کا گروہ تھا، یہی وہ گروہ تھا جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے والا گروہ تھا۔
خوارج کا گروہی باگی گروہ ہے
المصنف ابن ابي شيبه 39097
عنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَلِي ، فَسُئِلَ عَنْ أَهْلِ النَّهَرِ أمُشْرِكُونَ هم ؟ قَالَ : مِنَ الشِّرْكِ فَرُّوا ، قِيلَ : فَمُنَافِقُونَ هُمْ ؟ قَالَ : إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لاَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلاَّ قَلِيلاً ، قِيلَ لَهُ : فَمَا هُمْ ، قَالَ : قَوْمٌ بَغَوْا عَلَيْنَا.
طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی کے پاس تھا تو حضرت علی سے اہل النہر کے خوارج کے بارے میں سوال کیا گیا اپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خوارج مشرک ہیں آپ نے فرمایا وہ شرک سے بھاگتے ہیں (یعنی وہ مشرک نہیں ہے) پھر اپ سے پوچھا گیا کیا وہ خوارج منافق ہیں آپ نے فرمایا کہ منافق اللہ تعالی کا کم ہی ذکر کرتے ہیں (یعنی وہ منافق بھی نہیں ہے) پھر آپ سے پوچھا گیا تو وہ خوارج کون ہے آپ نے فرمایا وہ باغی گروہ ہے۔
اس حدیث کے مطابق باغی گروہ خوارج کا گروہ تھا
خوارج کے گروہ نے ہی حضرت عمار کو قتل کیا تھا
حضرت عمار بن ياسر کے قاتل خوارج ہی تھے۔ دلیل
عنْ عِكْرمةَ، عنِ ابنِ عبّاسٍ، أنَّه قالَ له ولابنِهِ عَليٍّ: انطَلِقا إلى أَبي سعيدٍ فاسْمَعا منه حديثَهُ في شأنِ الخوارجِ، فانطَلَقا، فإذا هو في حائطٍ له يُصْلِحُ، فلمّا رآنا أَخَذَ رِداءَه، ثُمَّ احْتَبى، ثُمَّ أَنشَأَ يُحدِّثُنا حتّى علا ذِكرُه في المسجدِ، فقالَ: كنّا نَحمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وعمّارٌ يَحمِلُ لَبِنَتينِ لَبِنَتينِ، فرآهُ النَّبيُّ ﷺ، فجَعَلَ ينفُضُ التُّرابَ عنْ رأسِه ويقولُ: يا عمّارُ، ألا تَحمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً كما يَحمِلُ أصحابُكَ؟ قالَ: إنِّي أُريدُ الأَجْرَ عندَ اللهِ، قالَ: فجَعَلَ ينفُضُ عنه التُّرابَ، ويقولُ: وَيْحَ عَمّارٍ! تَقتُلُه الفئةُ الباغيةُ. قالَ: ويقولُ عَمّارٌ: أَعوذُ باللهِ مِنَ الفِتَنِ. الحاكم، المستدرك على الصحيحين (2689)
هذا حديث صحيح على شرط البخاري۔ (447
حضرت عکرمہ سے روایت ہے وہ حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عباس نے ان سے اور اپنے بیٹے علی سے فرمایا کہ تم دونوں حضرت ابو سعید خدری کے پاس جاؤ اور ان سے خوارج کے بارے میں حدیث کو سنو تو وہ دونوں گئے تو حضرت ابو سعید خدری ایک دیوار کو صحیح کر رہے تھے تو جب حضرت ابو سعید خدری نے ہم کو دیکھا تو انہوں نے اپنی چادر کو صحیح کر لیا پھر ہم کو حدیث سنانا شروع کر دیا یہاں تک کہ اس کا ذکر مسجد میں بلند ہو گیا۔ اور فرمایا ہم تو مسجد کی تعمیر کے لیے ایک ایک اینٹ دھو رہے تھے اور حضرت عمار دو دو اینٹیں دھو رہے تھے۔ تو اللہ کے نبی نے ان کو دیکھا تو آپ ان کے سر سے مٹی کو جھاڑنے لگے اور اللہ کے نبی نے ان سے فرمایا اے عمار تم ایک ایک اینٹ کیوں نہیں ڈھو رہے ہو جیسا کہ تمہارے ساتھی ڈھو رہے ہیں تو حضرت عمار نے جواب دیا : میں اللہ کے پاس اجر چاہتا ہوں۔ تو اللہ کے نبی نے ان سے مٹی کو جھاڑتے ہوئے فرمایا کہ افسوس ہے حضرت عمار پر کہ ان کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی تو حضرت عمار نے فرمایا میں فتنوں سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں۔
اس حدیث کے مطابق باغی گروہ خوارج کا گروہ ہے اور خوارج کے گروہ نے ہی حضرت عمار کو قتل کیا ہے۔
از سرجیل سر