ملحدین اکثر ایک سوال کرتے ہیں کہ کیا خدا ایسا پتھر بنا سکتا ہے جس کو وہ خود نہ اٹھا سکے

جواب: یہ سوال غلط ہے کیونکہ یہ خدا کی تعریف کے خلاف ہے ، کیونکہ خدا کی تعریف میں ایک جزء یہ ہے کہ خدا قادر مطلق ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، اور جب کی اس سوال میں خدا کے لیے عجز کو فرض کر لیا گیا ہے۔ تو یہ سوال ہی غلط ہے۔

Allah’s power pertains to possibilities, not impossibilities

اللہ تعالیٰ، بلا شبہ قادر مطلق ہیں اور ہر چیز پر قادر ہیں۔ لیکن سوال میں ایک منطقی غلطی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی سے عاجز فرض کرکے سوال کیا گیا ہے۔ کیونکہ کسی پتھر کو نہ اٹھا سکنا عجز ہے، اور اللہ تعالیٰ عجز سے پاک ہیں۔ جب ایسے پتھر کا وجود ہی ناممکن ہے، تو اس کی تخلیق کا سوال ہی غلط ہے۔ اللہ کی قدرت ممکنات سے متعلق ہوتی ہے، محالات سے نہیں۔

Affected, non-existent is impossible and this does not diminish strength in any way

مُتَاثِّر معدوم ناممکن ہوتا ہے اور اس سے قدرت میں کوئی کمی نہیں آتی ہے۔ جیسے سورج، سورج میں اثر ڈالنے کی پوری صلاحیت ہے، لیکن جو چیزیں اثر قبول کرتی ہیں وہ تین طرح کی ہوتی ہیں: 

1. مُتَاثِّر کامل جیسے شیشہ۔

مُتَاثِّر ناقص جیسے پتھر 1. 

۔مُتَاثِّر معدوم جیسے کوئی بھی ایسی چیز جو دنیا میں نہ ہو 3. 

اب اگر کوئی یہ کہے کہ کیونکہ ایکس سورج سے اثر قبول نہیں کر رہا ہے، اس لیے سورج میں اثر ڈالنے کی قدرت نہیں ہے، تو کیا مُتَاثِّر معدوم کی وجہ سے سورج کی قدرت پر کوئی فرق پڑے گا؟ نہیں۔

ٹھیک یہی مسئلہ اللہ کی قدرت کے ساتھ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں، لیکن اگر کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے یا اس کا وجود ممکن ہی نہیں ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کی قدرت میں کوئی کمی ہے۔ محالات اللہ کی قدرت کے دائرے میں نہیں آتے اور اس سے اللہ کی قدرت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

میرے کچھ سوال ہیں جو آپ کے اس سوال کا جواب ہیں 

کیا ایک ایسا عدد ہو سکتا ہے جو جفت اور طاق دونوں ہو؟

کیا ایک شخص بیک وقت زندہ اور مردہ ہو سکتا ہے؟

کیا کوئی شے بیک وقت موجود اور غیر موجود ہو سکتی ہے؟

کیا کوئی شے بیک وقت حرکت اور سکون کی حالت میں ہو سکتی ہے؟

اگر یہ سوالات خود متضاد ہیں، تو کیوں آپ سوچتے ہیں کہ ایک قادر مطلق خدا کچھ ایسا کر سکتا ہے (ایک پتھر بنانا) جو اس کی قدرت کو توڑ دے (اسے نہ اٹھا سکنے کی صورت میں)؟

اگر یہ سوالات خود متضاد ہیں اور منطقی طور پر ممکن نہیں، تو اسی طرح یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ ایسا پتھر بنا سکتے ہیں جو وہ خود نہ اُٹھا سکیں، بھی منطقی طور پر متضاد سوالات ہیں۔ یہ سوالات اللہ کی قدرت پر سوال اٹھانے کے بجائے، ہماری اپنی سمجھ میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت ممکنات تک محدود ہے اور محالات سے کوئی تعلق نہیں رکھتی لہٰذا، یہ سوال خود ہی بے بنیاد ہے اور اللہ کی قدرت پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔

بہت سے کام خدا نہیں کر سکتا کیونکہ اگر وہ وہ کام کریگا تو وہ خدا نہیں رہیگا۔ جیسے کہ آپ ایماندار ہیں۔ اگر آپ بے ایمانی کریں گے تو آپ ایماندار نہیں رہیں گے۔ آپ سچے ہیں، اگر آپ جھوٹ بولیں گے تو آپ سچے نہیں رہیں گے۔ آپ صاف ستھرے ہیں اور آپ کیچڑ میں ڈبکی لگا سکتے ہیں لیکن لگائیں گے نہیں، کیونکہ اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ صاف ستھرے نہیں رہیں گے۔

یہ سوال ہی غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا پتھر بنا سکتے ہیں جو وہ خود نہ اُٹھا سکیں۔ یہ سوال اللہ تعالیٰ کی صفات کے خلاف ہے۔ 

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ آپ بالکل سچے ہیں، لیکن آپ ہر وقت جھوٹ بولتے ہیں۔ 

یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ اے، بی بن سکتا ہے۔ فرض کریں کہ اگر بن بھی گیا، تو وہ اے باقی نہیں رہےگا۔جیسے:کیا آم سیب بن سکتا ہے؟ جواب: نہیں۔

فرض کریں کہ اگر آم سیب بن بھی گیا، تو وہ آم باقی نہیں رہے گا۔کیا کوئی چیز ایک ہی وقت میں آم اور سیب دونوں ہو سکتی ہے؟  ہرگز نہیں۔ یہ سوالات بذات خود تضاد پر مبنی ہے

Allah is free from every imperfection and defect 

اگر خدا جھوٹ بول دے یا وہ انسان بن جائے یا یہی سوال، تو یہ ساری چیزیں خدا کو محدود کرنے والی ہیں اور جو محدود ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا کیونکہ محدود ہونا ایک نقص ہے اور اللہ تعالی ہر نقص سے پاک ہے، لہذا یہ سوال ہی غلط ہے اور یہ ایک منطقی مغالطہ ہے۔

از سرجیل سر 

can-god-create-a-stone-he-cannot-lift

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top