Argument of Origination
دلیلِ حدوث کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں کچھ بنیادی تصورات کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔
اورجنیسن کو عربی میں “حدوث” کہتے ہیں۔ کسی چیز کا پہلے نہ ہونا اور پھر وجود میں آنا “حادث” کہلاتا ہے۔ انگریزی میں اسے اوریجنیٹڈ کہتے ہیں۔
دلیل کا خلاصہ
پہلا مقدمہ: کائنات حادث ہے
دوسرا مقدمہ: اگر کائنات حادث ہے تو اس کا سبب مافوق الفطرتہونا ضروری ہے۔
نتیجہ:ثابت ہوا کہ کائنات کا مافوق الفطرت سبب ہے۔
تفصیل:
پہلا مقدمہ
کائنات حادث ہے: اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات ایک وقت میں موجود نہیں تھی اور پھر کسی وقت وجود میں آئی۔
سائنس کے مطابق بھی یہ کائنات حادث ہے۔ جیسے
کائنات تقریباً 13.8 بلین سال پہلے ایک عظیم دھماکے سے وجود میں آئی۔ اس دھماکے کے بعد، کائنات پھیلنے لگی اور آج تک پھیل رہی ہے۔ بگ بینگ تھیوری کا ثبوت کئی مشاہدات اور تجربات سے حاصل کیا گیا ہے:
1. کائناتی مائکروویو پس منظر شعاعیں: بگ بینگ کے فوراً بعد کی شعاعیں آج بھی کائنات میں موجود ہیں اور انہیں کائناتی مائکروویو پس منظر شعاعیں (CMB) کہا جاتا ہے۔ 1965 میں ان شعاعوں کی دریافت نے بگ بینگ تھیوری کو مضبوط ثبوت فراہم کیا۔
2. کہکشاؤں کی دوری: ہبل اسپیس ٹیلیسکوپ کی مدد سے کیے گئے مشاہدات نے یہ ثابت کیا کہ کہکشائیں مسلسل دور ہوتی جا رہی ہیں، جو کہ کائنات کے پھیلنے کا ثبوت ہے۔ یہ مشاہدہ ہبل کے قانون کے مطابق کیا گیا، جو کہ بگ بینگ تھیوری کی حمایت کرتا ہے۔
عنصر تشکیل
بگ بینگ کے بعد، کائنات میں سب سے پہلے ہلکے عناصر جیسے ہائیڈروجن اور ہیلیم بنے۔ ان عناصر کی موجودگی اور ان کی مقدار کا اندازہ لگانا بگ بینگ تھیوری کی تصدیق کرتا ہے۔ سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں ہائیڈروجن اور ہیلیم کی موجودگی وہی ہے جو بگ بینگ ماڈل کی پیش گوئی کرتا ہے۔
کائناتی توسیع
سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کی توسیع کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے۔ اس مشاہدے کو ڈارک انرجی کی موجودگی سے منسلک کیا گیا ہے جو کہ کائنات کی توسیع کی وضاحت کرتی ہے۔
گریویٹیشنل ویوز
2015 میں، سائنسدانوں نے گریویٹیشنل ویوز (ثقلی لہریں) دریافت کیں جو کہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی تصدیق کرتی ہیں۔ یہ لہریں بہت زیادہ ماس کے اجرام کے ٹکرانے یا آپس میں ملنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان لہروں کی دریافت نے بگ بینگ تھیوری اور کائنات کی ابتداء کے بارے میں مزید ثبوت فراہم کیے۔
دوسرا مقدمہ
اگر کائنات حادث ہے تو اس کا سبب مافوق الفطرت ہونا ضروری ہے۔ یہاں ہم یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہر حادث چیز کے پیچھے کوئی سبب ہوتا ہے، اور یہ سبب خود فطری نہیں ہو سکتا۔ اگر سبب فطری ہو گا تو وہ کائنات کا حصہ ہو گا اور کوئی شئے اپنی ذات کا سبب نہیں بن سکتی۔
مثلاً، اگر ہم یہ کہیں کہ ایک قلم خود اپنا سبب ہے تو یہ نہایت احمقانہ بات ہوگی۔ قلم نے یہ فیصلہ کیا کہ مجھے آج بننا ہے تو یہ بن گیا، ایسا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کائنات خود اپنا سبب نہیں بن سکتی۔ لہٰذا، کائنات کا سبب مافوق الفطرت ہونا ضروری ہے، یعنی وہ کائنات کے باہر ہونا چاہیے۔
نتیجہ
اس تمام بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کائنات کا ایک مافوق الفطرت سبب ہے۔
مافوق الفطرت سبب کیوں ضروری ہے؟
اگر کائنات کا سبب فطری ہو گا تو وہ خود کائنات کا حصہ ہوگا اور یہ ممکن نہیں کہ کوئی چیز اپنی ذات کا سبب ہو۔ لہذا، کائنات کا سبب مافوق الفطرت ہونا ضروری ہے تاکہ وہ کائنات کے باہر ہو اور کائنات کے وجود کا سبب بن سکے۔
از سرجیل سر