“Argument of contingency”

 

یہ دلیل دنیا کی موجودگی کی وضاحت کرتی ہے 

اس دلیل کو دلیل توقف یا ضروری کا نظریہ بھی کہا جاتا ہے

ضروری اور ممکنات

دلیل توقف اس بنیاد پر قائم ہے کہ دنیا میں موجود ہر چیز یا تو ممکن (کنٹنجینٹ) ہے یا ضروری (نیسیسری)۔ ممکن چیزیں وہ ہیں جو اپنی وجود کے لیے کسی دوسری چیز پر منحصر ہوتی ہیں۔ اور جن کو اپنے وجود کی وضاحت کرنے کے لیے کسی دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً، درخت، انسان، اور جانور وغیرہ ممکن ہیں کیونکہ ان کا وجود کسی نہ کسی سبب پر منحصر ہے۔

ممکنات کا تسلسل

دنیا میں موجود ہر ممکن چیز کسی نہ کسی سبب سے وجود میں آئی ہے۔ مثلاً، ایک درخت بیج سے پیدا ہوتا ہے، بیج مٹی میں ڈالنے اور پانی دینے سے اگتا ہے، اور یہ سب عوامل کسی نہ کسی طرح سے ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ اگر ہم اس تسلسل کو پیچھے کی جانب لے جائیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سلسلے کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟

ابتدائی سبب کی ضرورت

دلیل توقف کہتی ہے کہ ممکنات کا یہ تسلسل لامحدود نہیں ہو سکتا۔ ہمیں ایک ابتدائی سبب کی ضرورت ہے جو خود کسی دوسرے سبب پر منحصر نہ ہو۔ یہ ابتدائی سبب ضروری ہونا چاہیے، یعنی اس کا وجود اپنے آپ میں ہو اور وہ کسی دوسری چیز پر منحصر نہ ہو۔

ضروری وجود

یہی ابتدائی اور ضروری وجود خدا ہے۔ خدا وہ ہستی ہے جو خودمختار ہے اور کسی دوسری چیز پر منحصر نہیں۔ وہ سب چیزوں کا سبب ہے، لیکن خود کسی سبب کا محتاج نہیں۔

ضرورت کے نظریے کے مطابق، دنیا میں موجود ہر ممکن چیز کسی نہ کسی سبب سے وجود میں آئی ہے اور یہ سلسلہ کسی ابتدائی سبب پر ختم ہوتا ہے جو ضروری ہے۔ یہی ضروری وجود خدا کا وجود ہے ۔

دلیل توقف چار مقدمات پر مشتمل ہے، اور اس کے بعد نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔

1. ہر کنٹنجینٹ یعنی موقوف چیز کے وجود کے لیے تشریح ضروری ہے 

2. یونیورس کنٹنجینٹ یعنی موقوف ہے 

3. یونیورس یعنی کائنات کے وجود کے لیے تشریح ضروری ہے۔

4. یہ تشریح ٹرانسنڈینٹ وجود  یعنی ما فوق الفطرت ذات سے ہی ممکن ہے۔

نتیجہ 

ثابت ہوا کہ مافوق الفطرت ذات موجود ہے۔دلیل توقف کے ان چار مقدمات کے بعد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک مافوق الفطرت ذات موجود ہے، جسے ہم خدا کہتے ہیں

از سرجیل سر 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top