خدا کے وجود کا وجودیاتی استدلال (Ontological Argument)
یہ دلیل بنیادی طور پر تصوراتی ہے اور اسے سب سے پہلے سینٹ انسلم نے 11ویں صدی میں پیش کیا تھا۔ اس دلیل کا مقصد یہ ہے کہ خدا کا وجود صرف منطقی اور تصوراتی بنیادوں پر ثابت کیا جائے
سینٹ انسلم کا استدلال سینٹ انسلم نے اپنی کتاب “پروسلوگین” میں وجودیاتی استدلال پیش کیا۔ ان کے مطابق خدا وہ عظیم ترین ہستی ہے جس کا کوئی عظیم تر تصور ممکن نہیں۔ اگر خدا کا وجود صرف ہمارے ذہن میں ہو اور حقیقت میں نہ ہو تو ہم اس سے عظیم تر ہستی کا تصور کر سکتے ہیں جو حقیقت میں بھی موجود ہو۔ لیکن چونکہ ہم خدا کو عظیم ترین ہستی مانتے ہیں، اس لیے یہ ممکن نہیں کہ اس سے عظیم تر ہستی کا تصور کیا جا سکے۔ لہذا، خدا کا وجود ہمارے ذہن کے ساتھ ساتھ حقیقت میں بھی ہونا چاہیے۔
رینے ڈیکارٹ کا استدلال سینٹ انسلم کے بعد، رینے ڈیکارٹ نے بھی وجودیاتی استدلال پیش کیا۔ ڈیکارٹ کا کہنا تھا کہ خدا کا تصور ایسا ہے جو وجود کو لازم کرتا ہے۔ جب ہم خدا کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہم ایک کامل اور کامل ترین ہستی کا تصور کرتے ہیں۔ اور کامل ہستی کے تصور میں موجود ہونا بھی شامل ہے۔ اگر خدا موجود نہ ہو تو وہ کامل نہیں ہو سکتا، کیونکہ موجود نہ ہونا ایک نقص ہے۔ لہذا، خدا کا وجود لازم ہے۔
میں اس دلیل کو بالکل آسان کر کے سمجھاتا ہوں۔
یہ خدا کی تعریف سے شروع ہوتا ہے۔
اس دلیل میں چار قضیے ہیں جو یہ ہیں
- خدا وہ ہے جس سے بڑھ کر کسی کی بھی تصور نہیں کیا جا سکتا۔
- ایک چیز صرف سمجھ یا خیال میں موجود ہوتی ہے، لیکن ایک چیز صرف خیال یا سوچ میں ہی نہیں بلکہ حقیقت میں بھی موجود ہو سکتی ہے۔
- حقیقت میں ہونا سوچ میں ہونے سے بہتر اور عظیم تر ہے۔
- اگر خدا صرف خیال یا تصور میں موجود ہے تو وہ عظیم نہیں ہے، کیونکہ جو وجود میں ہوتا ہے وہ تصور میں ہونے والے سے بہتر یا عظیم تر ہے۔
ہمارے پہلے نکتہ کے مطابق، خدا اتنا عظیم ہے کہ اس سے عظیم تر یا بہتر کی کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے، خدا صرف خیال یا تصور میں ہی نہیں بلکہ حقیقت میں بھی موجود ہے۔
اس دلیل کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ خدا کا وجود لازمی اور حقیقی ہے، کیونکہ خدا کی تعریف ہی اس کے حقیقی وجود کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
از سرجیل سر