خدا کو کس نے پیدا کیا؟

 ہم کہتے ہیں کہ ہر چیز کو خدا نے پیدا کیا ہے تو ملحدین سوال کرتے ہیں کہ تو پھر خدا کو کس نے پیدا کیا ہے؟

موجودہ الحاد کے سب سے بڑے لیڈر ریچرڈ ڈوکنس نے اپنی کتاب گوڈ ڈلیوزن میں یہ سوال بڑے زور و شور سے اٹھایا ہے کہ اگر ہر چیز کا خالق خدا ہے تو خدا کا خالق کون ہے؟

آئیے جانتے ہیں کہ ملحدین کہ اس سوال میں کتنی معقولیت ہے؟

Category Mistake

یہ سوال ایک کیٹیگری مسٹیک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر وجود کی کچھ مخصوص صفات ہوتی ہیں جو اس کو “ڈیفائن” کرتی ہیں یعنی اس کی تعریف کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر، ایک کتاب کو ڈیفائن کرنے والی صفات میں اس کا کاغذ پر چھپا ہونا، اس کے صفحات اور اس کا مواد شامل ہے۔ اب اگر کوئی پوچھے کہ “کتاب کا ذائقہ کیسا ہے؟” تو یہ سوال بے معنی ہوگا کیونکہ کتاب کا ذائقہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ذائقہ کسی کھانے کی چیز کی صفت ہے، کتاب کی نہیں۔

اسی طرح، جب ہم خدا کی بات کرتے ہیں تو اس کی صفات میں یہ شامل ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ہے، یعنی اس کا کوئی آغاز نہیں ہے اور وہ ہمیشہ سے موجود ہے۔ جب ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ “خدا کو کس نے پیدا کیا؟” تو ہم دراصل خدا کو مخلوق کی صفات سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ غلط ہے۔ خدا مخلوق نہیں ہے، وہ خالق ہے، اور خالق کی صفات میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا کوئی خالق نہیں ہے۔

لہذا یہ سوال کہ “خدا کو کس نے پیدا کیا؟” خدا کی صفات کو سمجھنے میں ایک بنیادی غلطی ہے اور اسی لیے اسے کیٹیگری مسٹیک کہتے ہیں۔ 

خدا کو کس نے پیدا کیا؟

یہ سوال غلط ہے، کیونکہ اس سے سوال در سوال کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ 

مثلاً، اگر ہم پوچھیں کہ کائنات کو کس نے پیدا کیا؟ تو اس کا جواب ہوگا کہ اللہ نے۔ پھر اگر ہم پوچھیں کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ اگر اس سوال کا بھی کوئی جواب دیا جائے، تو ملحد اس سے اگلا سوال کریں گے کہ اس کو کس نے پیدا کیا؟ یوں ایک ناختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

اور اگر نہ ختم ہونے والا یہ سلسلہ صحیح ہوتا تو پھر ہمارا اور اس کائنات کا وجود نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن ہم ہیں، اس لیے، عقل اور منطق کی رو سے ہمیں ماننا پڑے گا کہ کہیں نہ کہیں یہ سلسلہ ختم ہوتا ہے اور ایک ایسی ذات موجود ہے جو خود کسی اور کی تخلیق کردہ نہیں ہے۔ وہی ذات اللہ ہے، جو خالق ہے اور اس کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔

یعنی اگر یہ سوال صحیح ہوتا کہ خدا کو کس نے پیدا کیا؟ تو اس کائنات کا اور ہمارا وجود ہی نہیں ہوتا لیکن اس کائنات کا اور ہمارا وجود ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سوال درست نہیں ہے۔

اس سوال کا جواب دینا صرف ہماری ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ملحدین کی بھی ذمہ داری ہے۔

اگر کوئی ملحد پھر بھی اس سوال پر اصرار کرے کہ “خدا کو کس نے پیدا کیا؟” تو آپ اس سے یہ سوال پوچھیں کہ “آپ کے نزدیک اس دنیا کی سب سے پہلی چیز کیا ہے؟” وہ جو بھی جواب دے، مثلاً بگ بینگ، ابتدائی ذرات یا کچھ اور، آپ اس سے پوچھیں کہ “اس پہلی چیز کو کس نے پیدا کیا؟”اس طرح سے، وہ خود بھی ایک نہ ختم ہونے والے سوالات کے سلسلے میں پھنس جائے گا اور کوئی تسلی بخش جواب نہ دے پائے گا۔ 

 آخرکار، اسے بھی یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کسی نہ کسی مقام پر ایک ایسی ذات یا وجود ہونا ضروری ہے جو خود کسی کی تخلیق کردہ نہ ہو۔ یوں وہ خاموش ہو جائے گا۔

فکری تضاد:

یہ سوال فکری تضاد پر مبنی ہے۔ یہ لوگ کائنات کو تو بغیر خالق کے مانتے ہیں، لیکن خدا کو ماننے کے لیے اس کے خالق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جب کائنات کو بغیر خالق کے مانا جا سکتا ہے تو خدا کو کیوں نہیں؟ جبکہ کائنات کا جنم ہوا ہے۔ ایک بے شعور کائنات کو خدا ماننے سے بہتر ہے کہ با شعور ذات کو خدا مانا جائے، جبکہ کائنات مخلوق ہے۔ ہر مخلوق کا کوئی نہ کوئی خالق ضرور ہوتا ہے، لیکن وہ مخلوق نہیں ہے، اس لیے اس کا کوئی خالق نہیں ہے۔

Theory of Relativity

البرٹ آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت ) کے مطابق، وقت (ٹائم)، مادے (میٹر)، اور خلا (اسپیس) آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مادہ اور خلا وجود میں آئے، تو اسی وقت وقت بھی وجود میں آیا۔ بگ بینگ تھیوری کے مطابق، یہ سب ایک بڑے دھماکے (بگ بینگ) کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔

چونکہ اللہ پوری کائنات کا خالق ہے، اس نے مادہ اور خلا کے ساتھ ساتھ وقت کو بھی پیدا کیا۔ لہٰذا، اللہ کی موجودگی کو ہماری محدود سوچ اور ٹائم ڈائمنشن (یعنی وقت کی جہت) کی بنیاد پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ کیونکہ وقت تو خود اللہ کی تخلیق ہے، اس لیے وقت سے ان چیزوں کا زمانہ بتایا جا سکتا ہے جو وقت کے وجود کے بعد وجود میں آتی ہیں ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کی کوئی ابتدا نہیں، تو اس کا کوئی خالق بھی نہیں ہو سکتا۔ وہ ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وقت کی پابندیوں کے بغیر اللہ کا وجود ہماری سوچ اور تصورات سے ماورا ہے۔ اس لیے یہ سوال کہ “اللہ کو کس نے پیدا کیا؟” بے معنی ہے، کیونکہ اللہ وقت کی حدود سے آزاد ہے اور اس کی کوئی ابتدا نہیں ہے۔

میٹا فزیکل ورلڈ:

خدا کا کوئی مادی وجود نہیں ہے۔ خدا کا تعلق فزیکل ورلڈ سے نہیں ہے بلکہ میٹا فزیکل ورلڈ سے ہے۔ اس لیے دونوں جگہ کے سٹینڈرڈ اور پیرامیٹر الگ الگ ہیں۔ یعنی دنیاوی کاموں اور لاجک کا اطلاق اللہ پر نہیں ہوگا۔ خدا پیدا نہیں ہوا، خدا تب سے ہے جب نہ مادہ اور انرجی تھی، نہ اسپیس تھا، نہ وقت کا وجود تھا، نہ فزیکل لاز تھے۔ تو خدا ہمیشہ سے ہے۔اور جو ہمیشہ سے ہو اس کے بارے میں ابتدا اور کب سے کا سوال کرنا غیر معقول 

Infinite Regress is impossible 

اگر کسی بھی کام کو کرنے کے لیے ایک آدمی اپنے اوپر والے سے پوچھتا رہے اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہو تو کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی کبھی مکمل نہیں ہو پائے گا۔ مثلاً:

*. آرمی میں اگر ہر سپاہی گولی چلانے سے پہلے اپنے اوپر والے سے پوچھتا رہے تو کبھی بھی گولی نہیں چلائی جا سکے گی۔

*. کھانا بنانے کے لیے اگر ہر کک اپنے اوپر والے سے پوچھتا رہے تو کھانا کبھی تیار نہیں ہوگا۔

*. حکومت کے انتظامات کے لیے اگر ہر افسر اپنے اوپر والے سے پوچھتا رہے تو کبھی بھی حکومت نہیں چل سکے گی۔

اسی لیے ہر ملک کا ایک سپریم لیڈر (اعلیٰ ترین رہنما) ہوتا ہے جو حتمی فیصلے کرتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ “انفنٹ ریگریس” یعنی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ممکن نہیں ہے۔

علت اولیٰ (First Cause):

جبکہ کائنات جیسے بڑے کام کا وجود ہو چکا ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی ایسی ذات ضرور ہے جو “انکوزڈ فسٹ کوز” یعنی جس کا کوئی خالق نہ ہو۔ خدا کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ پیدا نہ ہوا ہو۔ اب اگر کوئی پوچھے کہ “خدا کو کس نے پیدا کیا؟” تو خدا وہ ہوتا ہے جو پیدا نہ کیا گیا ہو۔ اگر خدا بھی پیدا ہوا ہوتا تو وہ خدا ہی نہیں، بلکہ مخلوق ہوتا۔

خدا کی ذات:

یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی پوچھے کہ “نیلے رنگ کی خوشبو کیسی ہوتی ہے؟” نیلا رنگ اُن چیزوں کے زمرے میں نہیں آتا جن کی اپنی کوئی خوشبو ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح خدا کی ذات بھی اس جہان کی ان چیزوں کے زمرے میں نہیں آتی جو تخلیق ہوئی ہوں یا جن کے موجود ہونے کا کوئی سبب ہو۔ خدا کے وجود میں آنے کا کوئی سبب نہیں ہے اور نہ ہی خدا کسی مخلوق کی طرح تخلیق ہوا۔ خدا واجب الوجود ہے، ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ تک رہے گا۔

نیست سے “کچھ بھی نہیں” پیدا ہوتا:

نیست سے “کچھ بھی نہیں” پیدا ہوتا۔ لہذا اگر یہ مان لیا جائے کہ کوئی ایسا وقت موجود تھا جب “کچھ بھی نہیں” تھا تو اُس “کچھ بھی نہیں” میں سے کچھ بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ کائنات میں بہت ساری چیزیں موجود ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کائنات کے وجود سے پہلے ایسا نہیں تھا کہ پوری کائنات میں “کچھ بھی نہیں” تھا، بلکہ کوئی نہ کوئی ذات یا قوت لازمی طور پر موجود تھی۔ اور اسی ہمیشہ سے موجود ذات، ہستی یا طاقت کو ہم خدا کہتے ہیں۔ خدا وہ ذات ہے جس کے موجود ہونے کا کوئی سبب نہیں جبکہ کائنات کی ہر چیز کے وجود کا واحد سبب وہی خدا ہے۔ خدا وہ ذات ہے واجب الوجود ہے، جسے کسی نے تخلیق نہیں کیا، لیکن وہ پوری کائنات کی ہر ایک چیز کا خالق ہے۔

از سرجیل سر 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top