حضرت عیسی رسول تھے، خدا نہیں

آئیے دیکھتے ہیں کہ بائیبل اور حضرت عیسیٰ کے پیروکار حضرت عیسی کو خدا مانتے تھے یا رسول؟

لوگوں نے کہا یہ گلِیل کے ناصرۃ کا نبی یِسُوع ہے۔

Mathew 21:11

 

اور سب پر دہشت چھاگئی اور خُدا کی تمجِید کر کے کہنے لگے کہ ایک بڑا نبی ہم میں برپا ہُؤا ہے اور خُدا نے اپنی اُمّت پر توجّہُ کی ہے۔

 Luke 7:16

 

پَس جو مُعجِزہ اُس نے دِکھایا وپ لوگ اُسے دیکھ کر کہنے لگے جو نبی دُنیا میں آنے والا تھا فِی الحقِیقت یہی ہے۔

 John 6:14

 

عورت نے اُس سے کہا اے خُداوند مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تُو نبی ہے۔ْ

John 4:19

 

خود حضرت عیسی اپنے آپ کو نبی کہتے ہیں

مگر مُجھے آج اور کل اور پرسوں اپنی راہ پر چلنا ضرُور ہے کِیُونکہ مُمکِن نہِیں کہ نبی یروشلِیم سے باہِر ہلاک ہو۔

34 اَے یروشلِیم! اَے یروشلِیم! تُو جو نبِیوں کو قتل کرتی ہے اور جو تیرے پاس بھیجے گئے اُن کو سنگسار کرتی ہے کِتنی ہی بار مَیں نے چاہا کہ جِس طرح مرغی اپنے بچّوں کو پرّوں تَلے جمع کرتی ہے اُسی طرح مَیں بھی تیرے بچّوں کو جمع کر لُوں مگر تُم نے نہ چاہا!

Luke 13:33,34

 

کیونکہ یسوع نے خود گواہی دی کہ نبی اپنے وطن میں عزت نہیں پاتا۔ْ

John 4:44

 

جو تُم کو قُبُول کرتا ہے وہ مُجھے قُبُول کرتا ہے اور جو مُجھے قُبُول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قُبول کرتا ہے۔

 Mathew 10:40

 

اُس نے جواب میں کہا کہ مَیں اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہُوئی بھیڑوں کے سِوا اور کِسی کے پاس نہِیں بھیجا گیا۔

Mathew 15:24

 

اُس نے اُن سے کہا کہ مُجھے اَور شہروں میں بھی خُدا کی بادشاہی کی خُوشخَبری سُنانا ضرُور ہے کِیُونکہ مَیں اِسی لِئے بھیجا گیا ہُوں۔

Luke 4:43

 

یسوع نے اُن سے کہا میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُس کا کام پورا کروں۔ْ

John 4:34

 

مَیں اپنے آپ سے کُچھ نہِیں کر سکتا۔ جیَسا سُنتا ہُوں عدالت کرتا ہُوں اور میری عدالت راست ہے کِیُونکہ مَیں اپنی مرضی نہِیں بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہُوں۔

John 5:30

 

اور جِس نے مُجھے بھیجا وہ میرے ساتھ ہے۔ اُس نے مُجھے اکیلا نہِیں چھوڑا کِیُونکہ مَیں ہمیشہ وُہی کام کرتا ہُوں جو اُسے پسند آتے ہیں۔

John 8: 29

ان آیات کے مطابق حضرت عیسی مسلمان تھے ۔

 

.اور میرے بھیجنے والے کی مرضی یہ ہے کہ جو کُچھ اُس نے مُجھے دِیا ہے مَیں اُس میں سے کُچھ کھو نہ دُوں

 , John 6:39

 

.یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا کہ میری تعلِیم میری نہِیں بلکہ میرے بھیجنے والے کی ہے۔

17 اگر کوئی اُس کی مرضی پر چلنا چاہے تو وہ اِس تعلِیم کی بابت جان جائے گا کہ خُدا کی طرف سے ہے یا مَیں اپنی طرف سے کہتا ہُوں۔

18 جو اپنی طرف سے کُچھ کہتا ہے وہ اپنی عِزّت چاہتا ہے لیکِن جو اپنے بھیجنے والے کی عِزّت چاہتا ہے وہ سّچا ہے اور اُس میں ناراستی نہہیں۔

 John 7:16,18

 

پَس یِسُوع نے ہَیکل میں تعلِیم دیتے وقت پُکار کر کہا کہ تُم مُجھے بھی جانتے ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ مَیں کہاں کا ہُوں اور مَیں آپ سے نہِیں آیا مگر جِس نے مُجھے بھیجا ہے وہ سّچا ہے۔ اُس کو تُم نہِیں جانتے۔

29 مَیں اُسے جانتا ہُوں اِس لِئے کہ مَیں اُس کی طرف سے ہُوں اور اُسی نے مُجھے بھیجا ہے۔

John 7:28,29

 

مُجھے تُمہاری نِسبت بہُت کُچھ کہنا اور فَیصلہ کرنا ہے لیکِن جِس نے مُجھے بھیجا وہ سَچّا ہے اور جو مَیں نے اُس سے سُنا وُہی دُنیا سے کہتا ہُوں۔

John 8:26

 

یِسُوع نے پُکارا کر کہا کہ جو مُجھ پر اِیمان لاتا ہے وہ مُجھ پر نہِیں بلکہ میرے بھیجنے والے پر اِیمان لاتا ہے۔

 John 12:44

 

کِیُونکہ مَیں نے کُچھ اپنی طرف سے نہِیں کہا بلکہ باپ جِس نے مُجھے بھیجا اُسی نے مُجھ کو حُکم دِیا ہے کہ کیا کہُوں اور کیا بولُوں۔

50 اور مَیں جانتا ہُوں کہ اُس کا حُکم ہمیشہ کی زِندگی ہے۔ پَس جو کُچھ مَیں کہتا ہُوں جِس طرح باپ نے مُجھ سے فرمایا ہے اُسی طرح کہتا ہُوں۔

John 12:49

 

اور ہمیشہ کی زِندگی یہ ہے کہ وہ تُجھ خُدایِ واحِد اور برحق کو اور یِسُوع مسِیح کو جِسے تُونے بھیجا ہے جائیں۔

John 17:3

 

کِیُونکہ جو کلام تُونے مُجھے پہُنچایا وہ مَیں نے اُن کو پہُنچا دِیا اور اُنہوں نے اُس کو قُبول کِیا اور سَچ جان لِیا کہ مَیں تیری طرف سے نِکلا ہُوں اور وہ اِیمان لائے کہ تُوہی نے مُجھے بھیجا۔

John 17:8

از سرجیل سر 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top