کیا ہر دھرم سچا ہو سکتا ہے؟
کیا تمام ادیان سچائی کی طرف لے جاتے ہیں؟
آج کل ایک عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ تمام مذاہب سچے ہیں۔ لوگ اس بات کے لیے یہ مثال دیتے ہیں کہ جس طرح ایک گھر کے کئی دروازے ہوتے ہیں۔ کیا اسی طرح خدا تک جانے والے کئی راستے اور مذاہب نہیں ہو سکتے ؟ لیکن کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟
جواب
سارے مذاہب کے مختلف سمتوں میں جانے والے راستے ایک ہی جگہ پر کیسے پہنچا سکتے ہیں جبکہ ان سب کی منزلیں الگ الگ ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ جب سارے مذاہب کے مقاصد اور منزلیں مختلف ہیں تو وہ سب ایک مشترکہ منزل پر کیسے پہنچا سکتے ہیں۔
سارے مذاہب فروعی مسائل میں ہی مختلف نہیں ہیں بلکہ بنیادی عقائد میں بھی ایک دوسرے کے مخالف ہیں جیسےتوحید رسالت آخرت ان تینوں میں سارے مذاہب مختلف ہیں۔صرف اسلام ہی توحید کو مانتا ہے باقی نہیں۔ عیسائی خدا کے رسول حضرت عیسیٰ کو خدا مانتے ہیں اور ہندوؤں کے یہاں رسولوں کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ آخرت کو یہودی، عیسائی اور مسلمان تو مانتے ہیں لیکن سناتنی، جینی اور بدھ مت کے پیروکار نہیں مانتے۔ تو جب سارے مذاہب کی بنیادیں ہی متضاد ہیں تو یہ سارے صحیح نہیں ہو سکتے، اس لیے سارے دھرموں کو صحیح کہنا ایک مغالطہ ہے۔
ایک کہہ رہا ہے کہ یہ قلم ہے، دوسرا سیب، تیسرا شیر۔ کم فہم انسان بھی آسانی سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ ان سارے لوگوں کا بیان ایک ہی چیز کے بارے میں ہرگز ہرگز صحیح نہیں ہو سکتا۔ ایک ہی چیز صحیح بھی ہو اور غلط بھی، ایسا ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ سارے مذاہب کو صحیح کہنا بھی ایسا ہی ہے۔ اگر سارے مذاہب خدا تک پہنچنے والے ہوتے تو یہ سارے مذاہب آپس میں متضاد نہ ہوتے۔
یاد رہے
جب خدا ایک ہے تو اس کا بتایا ہوا راستہ بھی ایک ہوگا۔
سارے مذاہب کی بنیادیں الگ الگ ہیں، سارے مذاہب کی منزلیں الگ الگ ہیں۔ جب سب کی منزل ہی الگ الگ ہے تو ان سب کی مشترکہ منزل کیسے ہو سکتی ہے؟ جب سب کی منزلیں الگ الگ ہیں، ایک کی منزل سچا خدا ہے، باقی سب مذاہب کی منزل جھوٹا خدا ہے۔ تو اس طرح راستے بھی دو ہوئے: سچا اور جھوٹا راستہ، ہدایت والا اور گمراہی والا راستہ۔ اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ غلط راستے سے، جھوٹے مذہب سے سچے خدا تک پہنچ جائیں۔ اگر سچے خدا تک پہنچنا ہے تو سچا راستہ اور سچا مذہب تلاش کرنا ہوگا۔
اگر آپ کو اپنے گھر میں داخل ہونا ہے تو آپ اپنے گھر میں اپنے گھر کے دروازے سے ہی داخل ہو سکتے ہیں نہ کہ میرے گھر کے دروازے سے۔
ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ خدا اپنا تعارف مختلف انسانوں سے مختلف اور متضاد کرائے۔ کچھ سے کہے کہ خدا ایک ہے (اسلام)، کچھ سے دو (پارسی)، کچھ سے تین (عیسائی)، کچھ سے کروڑوں اور بے شمار (ہندو)۔
اگر ایسا ہو تو وہ خدا ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ جھوٹ بولنے والا خدا، خدا نہیں ہو سکتا۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ سارے مذاہب صحیح نہیں ہیں، کوئی ایک مذہب ہی صحیح ہے۔
اب ہر انسان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صحیح مذہب کی تلاش کرے۔
آپ صحیح مذہب کو مندرجہ ذیل بنیادوں اور کسوٹی پر آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں:
1. مذہبی کتاب مستند اور معتبر ہو۔
2. وہ مذہب سب کے لیے ہو، ایسا دعویٰ مذہبی کتاب میں ہونا چاہیے اور اس پر عمل بھی۔
3. اس کی مذہبی کتاب انسانوں کے درمیان بھید بھاؤ نہ کرتی ہو۔
4. صرف ایک خدا کو ماننے والا مذہب ہو۔
5. اس میں دیا گیا خدا کا تعارف ہر قسم کے عیب سے پاک ہو اور انسانی صفات کی طرح نہ ہو۔
6. وہ نبیوں اور رسولوں کی عزت کو داغدار نہ کرتا ہو
اس معیار اور کسوٹی پر آپ کسی بھی مذہب کو آسانی سے چیک کر سکتے ہیں کہ وہ سچا مذہب ہے یا نہیں۔آپ سچے مذہب کی تلاش ان بنیادوں پر کرنا شروع کر دیجیے، آپ کو بہت جلد حق اور سچا دین مل
جائے گا۔ان شاء اللہ
تحریر از: سرجیل س